سیرت نبوینبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کی نیت سے نکلے تو قریش نے انہیں حدیبیہ کے مقام پر روک دیا، جس پر دس سالہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ صحابہ نے درخت کے نیچے نبی ﷺ سے بیعتِ رضوان کی جب یہ افواہ پھیلی کہ عثمان قتل کر دیے گئے ہیں۔ اگرچہ صلح کی شرائط ظاہری طور پر غیر منصفانہ نظر آتی تھیں، لیکن اللہ نے اسے فتحِ مبین کا نام دیا، کیونکہ لوگوں کو امن نصیب ہوا اور جنگ بندی کے دوران اسلام پھیل گیا۔

