سیرت نبویجب قریش نے اپنا معاہدہ توڑ دیا تو نبی ﷺ دس ہزار مسلمانوں کے ساتھ روانہ ہوئے اور آٹھویں سال رمضان میں بغیر کسی قابلِ ذکر لڑائی کے مکہ فتح کر لیا۔ آپ عاجزی کے ساتھ سر جھکائے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے، کعبہ کے گرد بت پاش پاش کیے اور اہلِ مکہ کو معاف کرتے ہوئے فرمایا: 'اذهبوا فأنتم الطلقاء'۔ چنانچہ لوگ جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے۔

