رفیق المسلم
ابھی رفیق المسلم حاصل کریں!

نماز استخارہ کی دعا

١ میں سے ٠ پڑھے
  1. ١ / ١

    قال جابر بن عبد الله رضي الله عنهما: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن، يقول: ((إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة، ثم ليقل: اللهم إني أستخيرك بعلمك، وأستقدرك بقدرتك، وأسألك من فضلك العظيم؛ فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغيوب، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر - ويسمي حاجته - خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري – أو قال: عاجله وآجله - فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري – أو قال: عاجله وآجله – فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان، ثم أرضني به)).وما ندم من استخار الخالق، وشاور المخلوقين المؤمنين وتثبت في أمره، فقد قال الله تعالى: " وشاورهم في الأمر فإذا عزمت فتوكل على الله ".

    جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام معاملات میں استخارہ کرنا اس طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت نماز پڑھے، پھر یہ دعا پڑھے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ (اپنی حاجت کا نام لے) خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - یا فرمایا: عاجل امر اور آجل امر میں - فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - یا فرمایا: عاجل امر اور آجل امر میں - فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعے خیر طلب کرتا ہوں، اور تیری قدرت کے ذریعے قوت کا سوال کرتا ہوں، اور تیرے بے پایاں فضل کا سوال کرتا ہوں، بے شک تو قدرت رکھتا ہے اور میں نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو غیب کی تمام باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تیرے علم میں یہ کام - اپنی حاجت کا نام لے - میرے دین، میری معیشت اور میرے انجام کار کے لیے بہتر ہے - یا فرمایا: میری دنیا و آخرت کے لیے بہتر ہے - تو اسے میرے لیے مقدر فرما دے اور آسان کر دے، پھر اس میں برکت عطا فرما، اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین، میری معیشت اور میرے انجام کار کے لیے برا ہے - یا فرمایا: میری دنیا و آخرت کے لیے برا ہے - تو اسے مجھ سے اور مجھے اس سے پھیر دے، اور میرے لیے جہاں بھی خیر ہو اسے مقدر فرما دے، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔) جو شخص خالق سے استخارہ کرے اور مومن مخلوق سے مشورہ کرے اور اپنے معاملے میں ثابت قدمی اختیار کرے وہ کبھی نادم نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”اور معاملات میں ان سے مشورہ کیجیے، پھر جب آپ عزم کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کیجیے۔“

    گننے کے لیے ٹچ کریں